مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر سردار اسماعیل قاآنی نے امریکہ کے غلط اندازوں کے حوالے سے خبردار کیا اور مختلف محاذوں پر مزاحمتی قوتوں کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے بے تدبیر حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ کسی سنگین حسابی غلطی سے بچنے کے لیے یہ حقیقت سمجھ لیں کہ آج پوری مزاحمت ایک متحدہ محاذ ہے اور اس کے مختلف میدان ایک دوسرے سے مربوط ہیں؛ لہٰذا مزاحمتی محاذ کی گہرائی کا اندازہ صرف ہتھیاروں کی مار کرنے کی صلاحیت سے نہ لگائیں، بلکہ مزاحمت کی وسعت اور گہرائی کو بھی اس میں شامل کریں، ورنہ صورتِ حال یہ ہوگی کہ آبنائے ہرمز میں ہتھیاروں کے ذریعے جنگ جاری ہوگی اور باب المندب کی آزادی مزاحمت کے ہاتھ میں ہوگی۔
جنرل قاآنی نے ایران کے خلاف امریکی جنگ شروع کرنے میں نیتن یاہو کے کردار اور اس کے آبنائے ہرمز اور باب المندب پر مرتب ہونے والے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے خود پسند صدر نے نیتن یاہو کی فریب کارانہ باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ کا جوا کھیلا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ کی 250 سالہ ساکھ داؤ پر لگ گئی اور اسے آبنائے ہرمز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں ہٹ دھرمی کے ذریعے امریکہ نے مزاحمتی محاذ کو میدان میں اتارا، جس نے دانشمندانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو آبنائے باب المندب میں بھی شکست سے دوچار کر دیا۔
جنرل قاآنی نے واضح کیا کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی کے پیغام کے بعد اگر امریکہ جنگ میں جوئے جیسا خطرناک رویہ جاری رکھتا ہے تو طاقتور مزاحمتی محاذ دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ساتھ، میدانِ جنگ کی سطح پر بھی اور اس کی گہرائی میں بھی، امریکہ کو کاری ضربیں لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ